Monday, February 20, 2012

اعتبار ہے اُس کا


مجھ پہ کیسا خمار ہے اُس کا
چاروں جانب حصار ہے اُس کا


اُڑ رہی ہے جو روشنی ہر سُو
دُھول ہے یا غبار ہے اُس کا


رُخ پہ ہر دم سجائے رکھتی ہُوں
یہ تبسُم قرار ہے اُس کا


کیوں نہ میری غزل حسیں ٹھہرے
میرے حرفوں میں پیار ہے اُس کا


چین دیتا ہے ، لے کے ، بے چینی
بس یہی کاروبار ہے اُس کا


رُوح کا جیسے زندگی پر ہے
دل پہ یُوں اختیار ہے اُس کا


جیسے آنکھوں کو ہو اُجالے کا
یُوں مجھے انتظار ہے اُس کا


لوگ کچھ بھی بھلے کہیں عاشی
پر مجھے اعتبار ہے اُس کا

Friday, February 3, 2012

یار

اِک مِلدے پر دِلوں  نہ  مِلدے   نِت  پئے مِلاون سینے
وکھریاں ہو کے کرن برائیاں جیہڑے ہون یار کمینے
بعضے کئی کئی سال نہ ملدے پر اندروں ہون نگینے
اعظم  اپنا  خون  بہاون  جتھے  یار  دے  وگن پسینے