Friday, January 10, 2020

شجر

اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوں
خود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں

اپنی مستی میں بہتا دریا ہوں
میں کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں

آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھ
میں ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں

خود ہی میں خود کو لکھ رہا ہوں خط
اور میں اپنا نامہ بر بھی ہوں

داستاں ہوں میں اک طویل مگر
تو جو سن لے تو مختصر بھی ہوں

ایک پھل دار پیڑ ہوں لیکن
وقت آنے پہ بے ثمر بھی ہوں

تہذیب حافی

غم

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے
تیرے جانے کا غم کیا گیا ہے

تا قیامت ہرے بھرے رہیں گے
ان درختوں پہ دم کیا گیا ہے

اس لیے روشنی میں ٹھنڈک ہے
کچھ چراغوں کو نم کیا گیا ہے

کیا یہ کم ہے کہ آخری بوسہ
اس جبیں پر رقم کیا گیا ہے

پانیوں کو بھی خواب آنے لگے
اشک دریا میں ضم کیا گیا ہے

ان کی آنکھوں کا تذکرہ کر کے
میری آنکھوں کو نم کیا گیا ہے

دھول میں اٹ گئے ہیں سارے غزال
اتنی شدت سے رم کیا گیا ہے

تہذیب حافی

نیند

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے
کہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہے

کسی درخت کی حدت میں دن گزارنا ہے
کسی چراغ کی چھاؤں میں رات کرنی ہے

وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلنا
وہ زلف صرف مرے ہاتھ سے سنورنی ہے

تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیں
سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ہے

ہمارے گاؤں کا ہر پھول مرنے والا ہے
اب اس گلی سے وہ خوشبو نہیں گزرنی ہے

ترے زیاں پہ میں اپنا زیاں نہ کر بیٹھوں
کہ مجھ مرید کا مرشد اویسؔ قرنی ہے

تہذیب حافی

خواب

عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی
وہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی

وہ اک چراغ کدہ جس میں کچھ نہیں تھا مرا
جو جل رہی تھی وہ قندیل بھی پرائی تھی

نہ جانے کتنے پرندوں نے اس میں شرکت کی
کل ایک پیڑ کی تقریب رو نمائی تھی

ہواؤ آؤ مرے گاؤں کی طرف دیکھو
جہاں یہ ریت ہے پہلے یہاں ترائی تھی

کسی سپاہ نے خیمے لگا دیے ہیں وہاں
جہاں پہ میں نے نشانی تری دبائی تھی

گلے ملا تھا کبھی دکھ بھرے دسمبر سے
مرے وجود کے اندر بھی دھند چھائی تھی

تہذیب حافی

سزائے موت

میری لکنت پہ ترس کھاتے ہوئے دیکھ مجھے
کتنی مشکل سے ترا نام لیا جاتا ہے

تو اگر جانے لگا ہے تو پلٹ کر مت دیکھ
موت لکھ کر تو قلم توڑ دیا جاتا ہے

تہذیب حافی

چپ

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا
اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا
۔
یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں
جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا
۔
اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ
اس نے جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا
۔
اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں
چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا
۔
اس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے
اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا
۔
بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ہے یہاں
دو قدم جو بھی مرے ساتھ چلا بیٹھ گیا
۔
بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص
جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا
۔
[تہذیب حافی ]

کسے خبر ہے

کسے خبر ہے کہ عمر بس
اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے
۔
کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے
کس خوشی میں لپٹ رہی ہے
۔
عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی
اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں
۔
عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ
اوروں میں بٹ رہی ہے
۔
میں اس کو ہر روز
بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا
۔
سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے
تمہاری آواز کٹ رہی ہے
۔
مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے
اور سبز ہونے سے کیا کسی کو
۔
یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے
جو مجھ سے لپٹ رہی ہے
۔
یہ وقت آنے پہ اپنی اولاد
اپنے اجداد بیچ دے گی
۔
جو فوج دشمن کو اپنا سالار
گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے
۔
سو اس تعلق میں جو غلط فہمیاں تھیں
اب دور ہو رہی ہیں
۔
رکی ہوئی گاڑیوں کے چلنے کا وقت ہے
دھندھ چھٹ رہی ہے
۔
[تہذیب حافی]

منطق

کیا عجیب منطق ہے
ربط کی تکونی میں

میں ہمیش ۔ ۔ ۔ اکثر ہی
تیسرا تو ہوتا ہوں
دوسرا نہیں ہوتا