Tuesday, January 31, 2012

رند اور شیخ


رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب


مندرجہ بالا شعر ظہیر بھائی کے توسط سے پڑہا۔ درج ذیل سطریں بھائی کی نظر کے لیئے چست کی ہیں۔

رند اور شوق کی کہانی بھی
شیخ اور زہد سی پرانی ہے


رند تھا شوق میں غریق بہت
شیخ کا زہد بھی کمال پہ تھا


رند کو تھی خبر، نہ ہوش تھا اپنا
شیخ نےرکھی خبر زمانے کی


رند کو شوق سے تھا شوق بہت
شیخ پڑہتا رہا نماز بہت


رند نے ترک کیا شغل اپن
شیخ اکڑا رہا عبادت پر


شوق سے عشق کا سفر طویل بہت
زہد کی عقل کی تاویل بہت


رند نے لی پناہ ندامت میں
شیخ گنتا رہا قیام و سجود


عشق کو مل گئی بساط نئی
عقل تھی محو تماشہ سر بام ابھی


عشق کو عجز میں پناہ ملی
عقل پکڑی گئی رعونت میں

رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب

Friday, January 27, 2012

تاوان

اپنا تاوان لے کے چھوڑے گا۔ ۔
۔
۔
۔
عشق ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جان لے کے چھوڑے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Sunday, January 22, 2012

امیر آنکھیں

اشک بہہ کر بھی کم نہیں ہوتے
آنکھیں کتنی امیر ہوتی ہیں