ٹک حرص وہوا کو چھوڑ میاں
مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے
قزاق اجل کا لوٹے ہے
دن رات بجا کرنقارا
کیا بدھیا. بھینسا، بیل شتر،
کیا بدھیا. بھینسا، بیل شتر،
کیا گونیں پلا سر بھارا
کیا گیہوں ،چاول، موٹھ ،مٹر،
کیا گیہوں ،چاول، موٹھ ،مٹر،
کیا آگ ،دھواں، اور انگارا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا
جب چلتے چلتے رستے میں
یہ گون تری ڈھل جاوے گی
اک بدھیا ،تیری مٹی پر،
اک بدھیا ،تیری مٹی پر،
پھرگھاس نہ چرنے پاوے گی
یہ کھیپ جو تونے لادی ہے
یہ کھیپ جو تونے لادی ہے
سب حصوں میں بٹ جاوے گی
دھی. پوت .جنوائی. بٹیا. کیا بنجارن پاس نہ آوے گی
دھی. پوت .جنوائی. بٹیا. کیا بنجارن پاس نہ آوے گی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا
یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے
یہ کھیپ میاں بت گن اپنی
اب کوئی گھڑی یا ساعت میں
اب کوئی گھڑی یا ساعت میں
یہ کھیپ بدن کی ہے کھیتی
کیا تھال .کٹورے. چاندی کے.
کیا تھال .کٹورے. چاندی کے.
کیا پیتل کی .ڈبیا ڈھکنی
کیا برتن .سونے. چاندی .کے
کیا برتن .سونے. چاندی .کے
کیا مٹی. کی ہنڈیا چینی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا
پرآن نفع اور ٹوٹے میں
کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن
ملک غافل دل میں سوچ ذرا
ملک غافل دل میں سوچ ذرا
ہے ساتھ لگا تیرے دشمن
کیا لونڈی، باندی، دائی، دوا
کیا لونڈی، باندی، دائی، دوا
کیا، بندا،.چیلا ،نیک چلن
کیا مندر ،مسجد ،تال ،کنواں،
کیا مندر ،مسجد ،تال ،کنواں،
کیا کھیتی، باڑی،پھول چمن
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا
جب مرگ پھرا کرچابک کو یہ بیل بدن ہا نکے گا
کوئی ناج ،سمیٹے گا ،تیرا
کوئی گون سئے اور ٹانکے گا
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں
تو خاک لحد کی پھانکے گا
اس جنگل میں پھر آہ نظیر
اس جنگل میں پھر آہ نظیر
اک پھنگا آن نہ جھانکے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا
سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی
۱۷۲۵۔۔۔ ۔۔۱۸۳۰
No comments:
Post a Comment