Tuesday, June 18, 2013

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

ٹک حرص وہوا کو چھوڑ میاں
 مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے
 دن رات بجا کرنقارا
کیا بدھیا. بھینسا، بیل شتر،
 کیا گونیں پلا سر بھارا
کیا گیہوں ،چاول، موٹھ ،مٹر،
 کیا آگ ،دھواں، اور انگارا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا


جب چلتے چلتے رستے میں
 یہ گون تری ڈھل جاوے گی
اک بدھیا ،تیری مٹی پر، 
پھرگھاس نہ چرنے پاوے گی
یہ کھیپ جو تونے لادی ہے
 سب حصوں میں بٹ جاوے گی
دھی. پوت .جنوائی. بٹیا. کیا بنجارن پاس نہ آوے گی

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا


یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے
 یہ کھیپ میاں بت گن اپنی
اب کوئی گھڑی یا ساعت میں
 یہ کھیپ بدن کی ہے کھیتی
کیا تھال .کٹورے. چاندی کے.
 کیا پیتل کی .ڈبیا ڈھکنی
کیا برتن .سونے. چاندی .کے
 کیا مٹی. کی ہنڈیا چینی

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

پرآن نفع اور ٹوٹے میں
 کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن
ملک غافل دل میں سوچ ذرا
 ہے ساتھ لگا تیرے دشمن
کیا لونڈی، باندی، دائی، دوا
 کیا، بندا،.چیلا ،نیک چلن
کیا مندر ،مسجد ،تال ،کنواں،
 کیا کھیتی، باڑی،پھول چمن

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

جب مرگ پھرا کرچابک کو یہ بیل بدن ہا نکے گا
کوئی ناج ،سمیٹے گا ،تیرا
 کوئی گون سئے اور ٹانکے گا
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں 
تو خاک لحد کی پھانکے گا
اس جنگل میں پھر آہ نظیر
 اک پھنگا آن نہ جھانکے گا

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی
۱۷۲۵۔۔۔ ۔۔۱۸۳۰

Thursday, April 25, 2013

بلا ہے عشق

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو يہ ہے بری بلا ہے عشق

 اثر غم ذرا بتا دينا
وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق

آفت جاں ہے کوئی پردہ نشيں
مرے دل ميں آ چھپا ہے عشق

کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کامی پہ با مزا ہے عشق

ہم کو ترجيح تم پہ ہے يعني
دل رہا حسن و جاں رہا عشق

ديکھ حالت مری کہيں کافر
نام دوزخ کا کيوں دھرا ہے عشق

ديکھیے کس جگہ ڈبو دے گا
ميری کشتی کا نا خدا ہے عشق

آپ مجھ سے نباہيں گے سچ ہے
با وفا حسن بے وفا ہے عشق

قيس و فرہاد وامق و مومن
مر گئے سب ہی کيا وبا ہے عشق