Friday, June 29, 2012

رُک ہی جاتی ہے نظر حدِ نظر تک ورنہ


تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں

 حُسن ِیزداں سے تجھے حُسن ِبُتاں تک دیکھوں

 دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا

 میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں 

صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

 میں تیرا حُسن تیرے حُسن ِبیاں تک دیکھوں 

تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا

 میں تو دل میں تیرے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

 رُک ہی جاتی ہے نظر حدِ نظر تک ورنہ

 دل تو کہتا ہے جہاں تم ہو وہاں تک دیکھوں