Saturday, November 24, 2012

یاد کے زخم


تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

حدیثِ یار کے عنواں نکھرنے لگتے ہیں
تو ہر حریم میں گیسو سنورنے لگتے ہیں

ہر اجنبی ہمیں محرم دکھائی دیتا ہے
جواب بھی تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں

صبا سے کرتے ہیں غربت نصیب ذکرِ وطن
تو چشمِ صبح میں آنسو اُبھرنے لگتے ہیں

وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری
فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں

درِ قفس پہ اندھیرے کی مہر لگتی ہے
تو فیض دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں

تمہاری یاد

تمہاری یاد سے جب ہم گزرنے لگتے ہیں
جو کوئی کام نہ ہو بس وہ کرنے لگتے ہیں

تمہارے آئینئہ ذات کے تصور میں
ہم اپنے آئینے آگے سنورنے لگتے ہیں

تمہارے کوچئہ جاں بخش کے قلندر بھی
عجیب لوگ ہیں ہر لمحہ مرنے لگتے ہیں

ہم اپنی حالتِ بے حالتی اذیت میں
نہ جانے کس کو کیسے یاد کرنے لگتے ہیں

بہت اُداس ہوں میں غم سدا نہیں رہتا
بہت اداس ہوں میں زخم بھرنے لگتے ہیں

انہیں میں تیری تمنا کا فن سکھاتا ہوں
جو لوگ تیری تمنا سے ڈرنے لگتے ہیں

یہاں میں ذکر نہیں کر رہا مکینوں کا
کبھی کبھی در و دیوار مرنے لگتے ہیں

Wednesday, August 22, 2012

موضوعِ سُخن


گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام
دھل کےنکلےگی ابھی چشمئہ مہتاب سےرات
اور مشتاق نگاہوں کی سُنی جائے گی
ان ہاتھوں سے مس ہونگے یہ ترسے ہوئےرات
انکا آنچل ہے، کہ رُخسار، کہ پیراہن ہےپیراہن,
کچھ تو ہےجس سےہوئیجاتی ہےچلمن رنگیں
جانے اس زُلف کی موہوم گھنی چھائوں میں
ٹمٹماتا ہے وہ آویزہ ابھی تک کہ نہیں
آج پھر حسن دل آرا کی وہی دھج ہو گی
وہی خوابیدہ سی آنکھیں، وہی کاجل کی لکیر
رنگِ رُخسار پہ ہلکا سا وہ غازے کا غبار
صندلی ہاتھ پہ دھندلی سی حنا کی تحریر
اپنے افکار کی، اشعار کی دُنیا ہے یہی
جانِ مضموں ہے یہی، شاہد معنیٰ ہے یہی
آج تک سُرخ و سیہ صدیوں کے سائے کے تلے
آدم و حوا کی اولاد پہ کیا گزری ہے؟
موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں
ہم پہ کیا گزرے گی، اجداد پہ کی گزری ہے؟
ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق
کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے؟
یہ حسیں کھیت، پھٹا پڑتا ہے جو بن جن کا!
کس لیے ان میں فقط بھوک اُگا کرتی ہے
یہ ہر اک سمت پراسرار کڑی دیواریں
جل بجھے جن میں ہزاروں کی جوانی کے چراغ
یہ ہر اک گام پہ ان خوابوں کی مقتل گاہیں
جن کے پر تو سے چراغاں ہیں ہزاروں کے دماغ
یہ بھی ہیں، ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے
لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کُھلتے ہوئے ہونٹ
ہائے اس جسم کے کم بخت دلآویز خطوط
اپ ہی کہیے کہیں ایسے بھی افسوں ہوں گے
اپنا موضوعِ سُخن ان کے سوا اور نہیں
طبعِ شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں

Sunday, July 15, 2012

ہموار کھینچ کر یا ، دشوار کھینچ کر

ہموار کھینچ کر یا ، دشوار کھینچ کر
تنگ آچکا ہوں سانس لگا تار کھینچ کر
میدان میں گر نہ آتا تلوار کھینچ کر
لے جاتے لوگ مصر کے بازار کھینچ کر
خاطر میں کچھ نہ لائے گا یہ سائلِ عشق ہے
تم روکتے ہو ریت کی دیوار کھینچ کر
اکتا چکا یہ دِل بھی، نظر بھی، میں آپ بھی
مُدت سے تیرا حسرتِ دیدار کھینچ کر
ہر گِز یہ ایسے ماننے والی نہیں میاں
دنیا کو دو لگا، سرِ بازار کھینچ کر
جاتا رہا وہ کیف، نہاں جو چُبھن میں تھا
پچھتا رہا ہوں پائوں کے اب خار کھینچ کر

Monday, July 9, 2012

عشق تیرا


تیرے سائے سے بھی مجھ کو تو گلہ رہتا ہے
غیر کیوں ساتھ تیرے میرے سوا رہتا ہے 

تیرے قدموں میں کوئی تجھ پہ فدا رہتا ہے
کشتہ ءِ خنجر تسلیم و رضا رہتا ہے 

عشق تیرا مرے سینے میں چھپا رہتا ہے 
اک سمندر ہے جو کوزے میں بسا رہتا ہے

لائے گی وعدہ ءِ فردا کی سحر کیا پیغام 
انتظار اب ترا اے بادِ صبا رہتا ہے 

میں نے تو کر لی ہے مے نوشی سے توبہ زاہد
کیوں در میکدہ ہر وقت کھلا رہتا ہے 

نشہ ءِ جرعہ ءِ صہبائے نظر سے مخمور
تیرا دیوانہ ترے در پہ پڑا رہتا ہے

یوں تو گن گن کے ہر اک جرم سے کرلی توبہ
عارف اعمال میں اک جرمِ وفا رہتا ہے 

Tuesday, July 3, 2012

عشق مجھ کو نہیں

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ تعلّق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

عمر ہر چند کہ ہے برق خرام
دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی

کچھ تو دے اے فلکِ نا انصاف
آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جائے اسد
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

ڈوبنا بحر غم میں سراپائے عشق ہے

پردہ ہٹ گیا تو بھرم نہ رہیگا باقی
حسن تو حسن ہے عشق تو عشق ہے

قیس و فرہاد کیا نغمئے جاناں کیا
معرفت الہی خدائے عشق ہے

زمیں پہ رہ کے بھی رہےپورا افلاکی
وہ فرد نہیں بلکہ زمانائے عشق ہے

بغض باطل سے ہے بنیاد ایماں کی
عداوت شیطاں سے صدائے عشق ہے

تڑپ مومن کو ہے اخروی مکاں کی
اک تعلق رب سے تمنائے عشق ہے

کائنات میں پوری وہ نالہ فریاد کہاں
تڑپ یہ کسک سوز ہائے عشق ہے

حیات میدان کارزار ابتدائے عشق ہے
اجل یار مومن انتہائے عشق ہے

ڈوبنا بحر غم میں سراپائے عشق ہے
عقل ہیچ ہے جنوں خاک پائے عشق ہے

Friday, June 29, 2012

رُک ہی جاتی ہے نظر حدِ نظر تک ورنہ


تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں

 حُسن ِیزداں سے تجھے حُسن ِبُتاں تک دیکھوں

 دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا

 میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں 

صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

 میں تیرا حُسن تیرے حُسن ِبیاں تک دیکھوں 

تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا

 میں تو دل میں تیرے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

 رُک ہی جاتی ہے نظر حدِ نظر تک ورنہ

 دل تو کہتا ہے جہاں تم ہو وہاں تک دیکھوں

Thursday, May 24, 2012

ملاقات

جب ملاقات بے ارادہ تھی
اس میں آسودگی زیادہ تھی


نہ توقع نہ انتظار نہ رنج
صبحِ ہجراں نہ شامِ وعدہ تھی


نہ تکلف نہ احتیاط نہ زعم
دوستی کی زبان سادہ تھی


جب بھی چاہا کہ گنگناؤں اسے
شاعری پیش پا فتادہ تھی


لعل سے لب چراغ سی آنکھیں
ناک ستواں جبیں کشادہ تھی


حدتِ جاں سے رنگ تانبا سا
ساغر افروز موجِ بادہ تھی


زلف کو ہمسری کا دعویٰ تھا
پھر بھی خوش قامتی زیادہ تھی


کچھ تو پیکر میں‌ تھی بلا کی تلاش
کچھ وہ کافر تنک لبادہ تھی


اپسرا تھی نہ حور تھی نہ پری
دلبری میں مگر زیادہ تھی


جتنی بے مہر، مہرباں اتنی
جتنی دشوار ، اتنی سادہ تھی


اک زمانہ جسے کہے قاتل
میرے شانے پہ سر نہادہ تھی


یہ غزل دین اس غزال کی ہے
جس میں‌ہم سے وفا زیادہ تھی


وہ بھی کیا دن تھے جب فراز اس سے
عشق کم عاشقی زیادہ تھی

ادھار


ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی
ا ب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاںا پنی جاں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب ناما دھر کا آیا کیوں
سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار ولار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیاج بھی دے لیں گے
ہں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں اس مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیاسنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہا پنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمرا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آخر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی زالی ہے
ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہاں تم سے ہمارا رشتہ ہے
کیاسود بیاج کا لالچ ہے ؟
کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ آنکھوں کت جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو اپنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا

Wednesday, May 16, 2012

محبت ناپ لےتے ہیں

چلو آئوپِھرکبھی ٹوٹی ہوئی چوڑی کے ٹکڑے سے
وہ بچپن کی طرح پھر سے محبت ناپ لےتے ہیں

محبت ہو رہی

اُنہیں مُجھ سے محبت ہو رہی تھی
نہ کُھلتی آنکھ تو بس ہو گئی تھی

Saturday, April 28, 2012

چوکھٹ پہ سر

ایک امی لقب
جب کھلے اس کے لب
اسکے لہجے سے سب

بے چراغی کے موسم میں 
سہمے ہوئے بھی دِیئے جل اُٹھے

روشنی روشنی ہر فضا ہوگئی
رنگت شہرِ جاں کیا سے کیا ہو گئی

وہ یتیمی کی چادر تھا اوڑھے ہوئے
جِس کی چھائوں میں سب بے نوا آگئے

اسکے قدموں میں تھی خاک خورشید کی
جسکے دامن میں سب انبیاء آگئے

کتنے موسٰی کے ہاتھوں میں آیا عصا
کتنے عیٰسی کو دست شفا مل گیا

ٹوٹ کر رہ گیا اسم کا دیوتا
بے خدائوں کو آخر خدا مل گیا

اسکی چوکھٹ پہ رکھ دوں میں سر اس طرح
کوئی جوتی ہو دہلیز پہ جس طرح

کون لکھے گا

مہتاب کو چہرے  کا بدل کون لکھے گا
اب میرے سوا تُجھ پہ غزل کون لکھے گا


میں سوچتا رہتا ہوں اگر لکھ نہ سکا میں
پھر مسئلہ ءِعِشق کا حل کون لکھے گا


جیسے بھی ہیں اھوال مھبت کے میری جاں
میں لکھ نہ سکا آج تو کل کون لکھے گا

بات کرے گا

دھلیز پہ پہنچوں گا تو سر بات کرے گا
خاموش فضا ہو گی تو گھر بات کرے گا


موسم کے حوادث سے تناور نہیں لیکن
کچھ روز میں آندھی سے شجر بات کرے گا


اِس وقت بدن پر ہے تو قیمت نہیں اِس کی
اُترے گا میرے تن سے تو سر بات کرے گا


اب مجھ میں وضاحت کی ذرا تاب نہیں ہے
اب تجھ سے میرا دیداءِ تر بات کرے گا


وہ ہونٹ جو مل جائیں تو دیکھنا راشد
نس نس میں محبت کا اثر بات کرے گا

نہیں آتے

اغراض کے پہلو بھی میسر نہیں آتی
مفلس کے جنازے میں تونگر نہیں آتے


حائل ہوئی اس طور محلوں کی بُلندی
اب دِن کے اُجالے بھی میرے گھر نہیں آتے


حالات کے ماروں میں کہاں خندا مزاجی
سوکھی ہوئی شاخوں پہ گُلِ تر نہیں آتے

دِل ڈوبنے لگتا تھا کبھی اشک رواں سے
اب خون بھی بہتا ہے تو چکر نہیں آتے

مسافر کہاں گیا

کیسی ہوا چلی ہے، سرِ راہ گزارِ شوق
منزل یہ پوچھتی ہے، مسافر کہاں گیا

خدا دیکھ رہا ہے

ظالم تو فقط اپنی انا دیکھ رہا ہے
میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا دیکھ رہا ہے


پھل دار درخت اپنی جوانی پہ ہے نازاں
سوکھا ہوا ایک درخت گھٹا دیکھ رہا ہے


بجھنا تو مقدر ہے مگر لو کی لپک سے
ہے تیز ہوا کتنی دیا دیکھ رہا ہے


دعواہ تھا کہ موجوں سے لڑے گا وہ میرے ساتھ
میں ڈُوب رہا ہوں وہ کھڑا دیکھ رہا ہے


کیوں دیکھے مجھے خواہشِ امداد سے کوئی
راضی ہوں کہ مجھے میرا خدا دیکھ رہا ہے

اہل حق

یہ فقط عظمت کردار کے ڈھب ہوتے ہیں
فیصلے جنگ کے تلوار سے کب ہوتے ہیں
جھوٹ تھا دَھر میں کِس درجہ زیادہ مگر
اہل حق ہوں تو بہتر بھی غضب ہوتے ہیں

لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

ہمیں تو اس پہ یقیں اس پہ اعتماد رہا
کہ لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

جو ہونٹ کٹ کے گریں گے وہ بن کے سنگِ نوا
ستم گروں کی فصیلِ ستم گِرا دیں گے


جو آنکھ آج بہے گی وہ سِیلِ نُور صِفت
تمام تِیرگیءِ شب کے رنگ اڑا دے گی


جو دل سے آہ ہوائوں میں ہو گئی شامل
وہ کل ہر ایک چراغ سِتم بجھا دے گی


جو ہاتھ آج کٹیں گے نقیبِ جاں ہوںگے
جو سَر زمیں پہ گریں گے آسماں ہوںگے


انہیں خبر ہی نہیں وقت کے بدلنے سے
خاموش کوہ بھی شُعلے اُگلنے لگتے ہیں


جو دوسروں کے گھروں کو جلانا چاہتے ہیں
خُد اپنی آگ کی حِدت سے جلنے لگتے ہیں


ہمیں تو اپنے بدن کی نہِیں پرواہ
ہمیں عزیز ہے آواز کی بقا یارو


عضو مٹائیں گے آخر کہاں تلک ہم کو
اُدھر ہے آتِش نمرود اِدھر خُدا یارو


تمام زخم ہمیں یاد ہیں حریفوں کے


جو تیر نکلے وہ سوئے کماں نہیں جاتا
لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

یاد

کسی کے یوں بچھڑنے پر
کسی کی یاد آنے پر
بہت سے لوگ روتے ہیں
کہ رونا اک روایت ہے
محبت کی علامت ہے
میں ان پرپیچ راہوں پر
غمِ جاناں سے گھبرا کر
روایت توڑ جاتا ہوں
تمھاری یاد آنے پر
میں اکثر مسکراتا ہوں

یوں ہے

عشق ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

جیسے کوئی درِدل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے

تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے، یوں ہے

اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے

تو نے دیکھی ہی نہیں دشتَ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرئہ خوں ہے، یوں ہے

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے کہ یوں ہے، یوں ہے

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلہءِ کن فیکوں ہے، یوں ہے

نام تمھارے

ساحل، ریت
سمندر،لہریں
بستی،جنگل
صحرا،دریا
خوشبو، موسم
پھول،دریچے
بادل،سورج
چاند،ستارے

آج یہ سب کچھ نام تمھارے

خواب کی باتیں
یاد کے قصے
سوچ کے پہلو
نیند کے لمحے
درد کے آنسو
چین کے نغمے

اڑتے وقت کے بہتے دھارے
آج یہ سب کچھ نام تمہارے

روح کی آہٹ
جسم کی جنبش
خون کی گردش
سانس کی لرزش
آنکھ کا پانی

چاہت کے یہ عنوان سارے
آج سےسب کچھ نام تمھارے

Monday, March 12, 2012

کتے

راتیں جا گیں کریں عبادت
راتیں جا گن کتے
تیتھوں اتے
بھو نکنو ں بند مول نہ ہندے
جا رڑی تے ستے
تیتھو ں اتے
خصم اپنے دا در نہ چھڈدے
بھانویں وجن جتے
تیتھوں اتے
بلھے شاہ کو ئی رخت و یہاج لے
بازی لے گئے کتے
تیتھوں اتے

Friday, March 9, 2012

میری تنہائی

درد کی شام سخاوت پہ اتر آئی ہے
دھوپ سی قریہ ء وحشت پہ اتر آئی ہے


کوئی پیغام سا بھیجا ہے کسی نے شاید
اک اڑن طشتری سی چھت پہ اتر آئی ہے


روز طغیانی کی آواز بلاتی تھی اُسے
آنکھ دریا میں سکونت پہ اُتر آئی ہے


سرسراتے ہوئے پردے میں عجب گونج سی تھی
میری تنہائی بغاوت پہ اُتر آئی ہے


اتنی مدہم تو نہ تھی زرد مناظر کی صدا
ساری بینائی سماعت پہ اُتر آئی ہے


جسم جلتا ہے اندھیرے کے کفن میں لپٹا
رات دوزخ کی تمازت پہ اُتر آئی ہے


دِل میں دھیمی سی کوئی آنچ دبا رکھی تھی
بجھتے بجھتے بھی قیامت پہ اُتر آئی ہے


جیسے تسخیر کئے بیٹھی ہے دونوں عالم
آگہی اپنی عبادت پہ اتر آئی ہے

Monday, February 20, 2012

اعتبار ہے اُس کا


مجھ پہ کیسا خمار ہے اُس کا
چاروں جانب حصار ہے اُس کا


اُڑ رہی ہے جو روشنی ہر سُو
دُھول ہے یا غبار ہے اُس کا


رُخ پہ ہر دم سجائے رکھتی ہُوں
یہ تبسُم قرار ہے اُس کا


کیوں نہ میری غزل حسیں ٹھہرے
میرے حرفوں میں پیار ہے اُس کا


چین دیتا ہے ، لے کے ، بے چینی
بس یہی کاروبار ہے اُس کا


رُوح کا جیسے زندگی پر ہے
دل پہ یُوں اختیار ہے اُس کا


جیسے آنکھوں کو ہو اُجالے کا
یُوں مجھے انتظار ہے اُس کا


لوگ کچھ بھی بھلے کہیں عاشی
پر مجھے اعتبار ہے اُس کا

Friday, February 3, 2012

یار

اِک مِلدے پر دِلوں  نہ  مِلدے   نِت  پئے مِلاون سینے
وکھریاں ہو کے کرن برائیاں جیہڑے ہون یار کمینے
بعضے کئی کئی سال نہ ملدے پر اندروں ہون نگینے
اعظم  اپنا  خون  بہاون  جتھے  یار  دے  وگن پسینے

Tuesday, January 31, 2012

رند اور شیخ


رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب


مندرجہ بالا شعر ظہیر بھائی کے توسط سے پڑہا۔ درج ذیل سطریں بھائی کی نظر کے لیئے چست کی ہیں۔

رند اور شوق کی کہانی بھی
شیخ اور زہد سی پرانی ہے


رند تھا شوق میں غریق بہت
شیخ کا زہد بھی کمال پہ تھا


رند کو تھی خبر، نہ ہوش تھا اپنا
شیخ نےرکھی خبر زمانے کی


رند کو شوق سے تھا شوق بہت
شیخ پڑہتا رہا نماز بہت


رند نے ترک کیا شغل اپن
شیخ اکڑا رہا عبادت پر


شوق سے عشق کا سفر طویل بہت
زہد کی عقل کی تاویل بہت


رند نے لی پناہ ندامت میں
شیخ گنتا رہا قیام و سجود


عشق کو مل گئی بساط نئی
عقل تھی محو تماشہ سر بام ابھی


عشق کو عجز میں پناہ ملی
عقل پکڑی گئی رعونت میں

رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب

Friday, January 27, 2012

تاوان

اپنا تاوان لے کے چھوڑے گا۔ ۔
۔
۔
۔
عشق ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جان لے کے چھوڑے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Sunday, January 22, 2012

امیر آنکھیں

اشک بہہ کر بھی کم نہیں ہوتے
آنکھیں کتنی امیر ہوتی ہیں