Saturday, April 28, 2012

لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

ہمیں تو اس پہ یقیں اس پہ اعتماد رہا
کہ لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

جو ہونٹ کٹ کے گریں گے وہ بن کے سنگِ نوا
ستم گروں کی فصیلِ ستم گِرا دیں گے


جو آنکھ آج بہے گی وہ سِیلِ نُور صِفت
تمام تِیرگیءِ شب کے رنگ اڑا دے گی


جو دل سے آہ ہوائوں میں ہو گئی شامل
وہ کل ہر ایک چراغ سِتم بجھا دے گی


جو ہاتھ آج کٹیں گے نقیبِ جاں ہوںگے
جو سَر زمیں پہ گریں گے آسماں ہوںگے


انہیں خبر ہی نہیں وقت کے بدلنے سے
خاموش کوہ بھی شُعلے اُگلنے لگتے ہیں


جو دوسروں کے گھروں کو جلانا چاہتے ہیں
خُد اپنی آگ کی حِدت سے جلنے لگتے ہیں


ہمیں تو اپنے بدن کی نہِیں پرواہ
ہمیں عزیز ہے آواز کی بقا یارو


عضو مٹائیں گے آخر کہاں تلک ہم کو
اُدھر ہے آتِش نمرود اِدھر خُدا یارو


تمام زخم ہمیں یاد ہیں حریفوں کے


جو تیر نکلے وہ سوئے کماں نہیں جاتا
لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

2 comments:

  1. یہ کس نے لکھی ہے ؟
    باقی نظم تو ٹھیک تھی لیکن آخری شعر کے فلسفےاور لفاظی نے مبہوت کر دیا ہے

    ReplyDelete