ہموار کھینچ کر یا ، دشوار کھینچ کر
تنگ آچکا ہوں سانس لگا تار کھینچ کر
میدان میں گر نہ آتا تلوار کھینچ کر
لے جاتے لوگ مصر کے بازار کھینچ کر
خاطر میں کچھ نہ لائے گا یہ سائلِ عشق ہے
تم روکتے ہو ریت کی دیوار کھینچ کر
اکتا چکا یہ دِل بھی، نظر بھی، میں آپ بھی
مُدت سے تیرا حسرتِ دیدار کھینچ کر
ہر گِز یہ ایسے ماننے والی نہیں میاں
دنیا کو دو لگا، سرِ بازار کھینچ کر
جاتا رہا وہ کیف، نہاں جو چُبھن میں تھا
پچھتا رہا ہوں پائوں کے اب خار کھینچ کر
تنگ آچکا ہوں سانس لگا تار کھینچ کر
میدان میں گر نہ آتا تلوار کھینچ کر
لے جاتے لوگ مصر کے بازار کھینچ کر
خاطر میں کچھ نہ لائے گا یہ سائلِ عشق ہے
تم روکتے ہو ریت کی دیوار کھینچ کر
اکتا چکا یہ دِل بھی، نظر بھی، میں آپ بھی
مُدت سے تیرا حسرتِ دیدار کھینچ کر
ہر گِز یہ ایسے ماننے والی نہیں میاں
دنیا کو دو لگا، سرِ بازار کھینچ کر
جاتا رہا وہ کیف، نہاں جو چُبھن میں تھا
پچھتا رہا ہوں پائوں کے اب خار کھینچ کر