Sunday, July 15, 2012

ہموار کھینچ کر یا ، دشوار کھینچ کر

ہموار کھینچ کر یا ، دشوار کھینچ کر
تنگ آچکا ہوں سانس لگا تار کھینچ کر
میدان میں گر نہ آتا تلوار کھینچ کر
لے جاتے لوگ مصر کے بازار کھینچ کر
خاطر میں کچھ نہ لائے گا یہ سائلِ عشق ہے
تم روکتے ہو ریت کی دیوار کھینچ کر
اکتا چکا یہ دِل بھی، نظر بھی، میں آپ بھی
مُدت سے تیرا حسرتِ دیدار کھینچ کر
ہر گِز یہ ایسے ماننے والی نہیں میاں
دنیا کو دو لگا، سرِ بازار کھینچ کر
جاتا رہا وہ کیف، نہاں جو چُبھن میں تھا
پچھتا رہا ہوں پائوں کے اب خار کھینچ کر

Monday, July 9, 2012

عشق تیرا


تیرے سائے سے بھی مجھ کو تو گلہ رہتا ہے
غیر کیوں ساتھ تیرے میرے سوا رہتا ہے 

تیرے قدموں میں کوئی تجھ پہ فدا رہتا ہے
کشتہ ءِ خنجر تسلیم و رضا رہتا ہے 

عشق تیرا مرے سینے میں چھپا رہتا ہے 
اک سمندر ہے جو کوزے میں بسا رہتا ہے

لائے گی وعدہ ءِ فردا کی سحر کیا پیغام 
انتظار اب ترا اے بادِ صبا رہتا ہے 

میں نے تو کر لی ہے مے نوشی سے توبہ زاہد
کیوں در میکدہ ہر وقت کھلا رہتا ہے 

نشہ ءِ جرعہ ءِ صہبائے نظر سے مخمور
تیرا دیوانہ ترے در پہ پڑا رہتا ہے

یوں تو گن گن کے ہر اک جرم سے کرلی توبہ
عارف اعمال میں اک جرمِ وفا رہتا ہے 

Tuesday, July 3, 2012

عشق مجھ کو نہیں

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ تعلّق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائی
اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

عمر ہر چند کہ ہے برق خرام
دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی

کچھ تو دے اے فلکِ نا انصاف
آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جائے اسد
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

ڈوبنا بحر غم میں سراپائے عشق ہے

پردہ ہٹ گیا تو بھرم نہ رہیگا باقی
حسن تو حسن ہے عشق تو عشق ہے

قیس و فرہاد کیا نغمئے جاناں کیا
معرفت الہی خدائے عشق ہے

زمیں پہ رہ کے بھی رہےپورا افلاکی
وہ فرد نہیں بلکہ زمانائے عشق ہے

بغض باطل سے ہے بنیاد ایماں کی
عداوت شیطاں سے صدائے عشق ہے

تڑپ مومن کو ہے اخروی مکاں کی
اک تعلق رب سے تمنائے عشق ہے

کائنات میں پوری وہ نالہ فریاد کہاں
تڑپ یہ کسک سوز ہائے عشق ہے

حیات میدان کارزار ابتدائے عشق ہے
اجل یار مومن انتہائے عشق ہے

ڈوبنا بحر غم میں سراپائے عشق ہے
عقل ہیچ ہے جنوں خاک پائے عشق ہے