جس طرف منزلوں نے ملنا ہو
راستے اب وہاں نہیں ہوتے
پیار بڑھتا رہے تو بہتر ہے
سلسلے رائیگاں نہیں ہوتے
خواب جلنے کی راکھ پلکوں پر
رتجگے بےنشاں نہیں ہوتے
ٹوٹ جائے بھرم تو تب کہنا
آئینے کرچیاں نہیں ہوتے
ان کو تکتے ہیں موند کر آنکھیں
فاصلے درمیاں نہیں ہوتے
معجزے اب یہاں نہیں ہوتے
حادثے ہیں، کہاں نہیں ہوتے
No comments:
Post a Comment