Tuesday, November 29, 2011

تُم سے کُچھ نہیں کہنا


 ہم نے سوچ رکھا ہے 
چاہے دل کی ہرخواہش
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے 
بہہ جائے 
چاہے اب مکینوں پر 
گھر کی ساری دیواریں چھت سمیت گِر جائیں 
اور بے مقّدر ہم 
اس بدن کے ملبے میں خُودہی کیوں نہ دَب جائیں 
تم سے کُچھ نہیں کہنا 
کیسی نیند تھی اپنی
کیسے خواب تھے اپنے 


اور اب گلابوں پر 
نیند والی آنکھوں پر 
نرم خُو سے خوابوں پر 
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں 
تم سے کچھ نہیں کہنا 
گِھر گئے ہیں راتوں میں 
بے لباس باتوں میں 
اِس طرح کی راتوں میں 
کب چراغ جلتے ہیں، کب عذاب ملتے ہیں 
اب تو اِن عذابوں سے
بچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں
جس طرح تمھیں سچ کے
لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں 
ہم نے سوچ رکھا ہے
تُم سے کُچھ نہیں کہنا

محّبت کم نہیں ہو گی


مِری آنکھیں سلامت ہیں
مِرا دل میرے سینے میں دھڑکتا ہے
مُجھے محسوس ہوتا ہے
محّبت کم نہیں ہو گی


محّبت ایک وعدہ ہے
جو سچاّئی کی اُن دیکھی کسِی ساعت میں ہوتا ہے
کِسی راحت میں ہوتا ہے


یہ وعدہ شاعری بن کر مرے جذبوں میں دُھلتا ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
محّبت کم نہیں ہو گی


محّبت ایک موسم ہے
کہ جس میں خواب اُگتے ہیں تو خوابوں کی ہری
شاخیں
گُلابوں کو بُلاتی ہیں
انھیں خُوشبو بناتی ہیں
یہ خُوشبو جب ہماری کھڑکیوں پر دستکیں دے کر
گُزرتی ہے
مُجھے محسوس ہوتا ہے
محّبت کم نہیں ہو گی

دستک


نئے گھرانے بسا رہے تھے 
چراغ بستی سے جا رہے تھے 


یتیم لگنے لگی تھی چھاؤں 
پرند وحشت منا رہے تھے 


جمی تھی گرد آئنوں کے اوپر 
ہم اپنی آنکھیں چھپا رہے تھے 


صدائے گریہ تھی باغ میں اور 
درخت پونجی لٹا رہے تھے 


صحیفے برسوں سے ان چھوئے تھے 
سو لوگ انکو بھلا  رہے تھے 


سرائے ویراں تھی اور مسافر 
نہ آ رہے تھے نہ جا رہے تھے 


جدید ہوتے گلی محلے 
قدیم منظر دکھا رہے تھے 


حویلیوں کے کواڑ مجھکو 
مری ہی دستک سنا رہے تھے 

بنجارے


بنجارے ہیں رشتوں کی تجارت نہیں کرتے
ہم لوگ دکھاوے کی محبت نہیں کرتے


کیوں بوجھ لیے بیٹھے ہو تم ذہن پہ اپنے
ہم لوگ تو دشمن سے بھی نفرت نہیں کرتے


ملنا ہے تو آ جیت لے میدان میں ہم کو
ہم اپنے قبیلے سے بغاوت نہیں کرتے

لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں


ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
دشت میں پیاس بُجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں


ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں


گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں


کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چُپ چاپ
ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں


اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں


یہ محبّت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں


ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہی

نوحہ ء شہر ِ آشوب


مقتل ِ شہر جگمگاتا ھے
نوحہ ء خامشی سناتا ھے


کون موسیٰ بنے گا محشر میں
قہر ِ فرعون مسکراتا ھے


حسن بازار ِ بھوک میں ناچے
شاہ کٹھ پتلیاں نچاتا ھے


اب مرے گھر ڈرون آئیں گے
راہ مسند نشیں دکھاتا ھے


کھلتے جاتے ھیں راز ِ غداری
چہرہ ھر شخص کا بتاتا ھے


بک رھا ھے وطن کا ھر گوشہ
فتنہء دھر سر اٹھاتا ھے


کالی بارش نگر نگر برسے
موت بانٹے جو تاج پاتا ھے


کیا قیامت ھے بیچ کر گردے
مفلس ِ شہر گھر چلاتا ھے

معجزے اب یہاں نہیں ہوتے


جس طرف منزلوں نے ملنا ہو
راستے اب وہاں نہیں ہوتے


پیار بڑھتا رہے تو بہتر ہے
سلسلے رائیگاں نہیں ہوتے


خواب جلنے کی راکھ پلکوں پر
رتجگے بےنشاں نہیں ہوتے


ٹوٹ جائے بھرم تو تب کہنا
آئینے کرچیاں نہیں ہوتے


ان کو تکتے ہیں موند کر آنکھیں
فاصلے درمیاں نہیں ہوتے


معجزے اب یہاں نہیں ہوتے
حادثے ہیں، کہاں نہیں ہوتے

آج کل معجزے نہیں ہوتے

چاہتوں میں گلے نہیں ہوتے

عشق میں ضابطے نہیں ہوتے


یاد کرتے ہیں دل ہی دل میں تجھے
اب تیرے تذکرے نہیں ہوتے

کھوکے سب کچھ خیال آتا ہے
کاش ہم تم ملے نہیں ہوتے


میری قسمت وہ بن تو جائے مگر
آج کل معجزے نہیں ہوتے

سفر میں زندگی کے

سفر میں زندگی کے

 کوئی رستہ نہیں‌ دیتا
زمیں واقف نہیں‌ بنتی
 فلک سایہ نہیں دیتا

اداسی جس کے دل میں‌ ہو
 اسی کی نیند اڑ تی ہے
کسی کو اپنی آنکھوں سے
 کوئی سپنا نہیں دیتا

اٹھانا خود ہی پڑتا ہے
 تھکا ٹوٹا بدن اپنا
کہ جب تک سانس چلتی ہے
 کوئی کندھا نہیں‌دیتا

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو


میرے ہی لہو پر
گذر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو؟

دن ایک ستم
ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو
دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

ہم خاک نشیں
تم سخن آراہءِ سرِ بام
پاس آکر ملو ، دور سے کیا بات کرو ہو

ہم کو جو ملا ہے
وہ تمہیں سے تو ملا ہے
ہم اور بھلا دیں تمہیں، کیا بات کرو ہو

یوں تو منہ پھیر کے
دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پرے ہے تو ، مدارات کرے ہو؟

دامن پہ کوئی داغ
نہ خنجر پہ کوئی چھینٹ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بکنے دو عاجز کو
کے بولے ہے
بکے ہے
دیوانہ ہے
دیوانے سے کیا بات کرو ہو؟

محبت کی ادھوری نظم


رات کا سمندر ہے
رات بھی محبت کی


بات کا اجالا ہے
بات بھی محبت کی


گھات کی ضرورت ہے
گھات بھی محبت کی


نرم گرم خاموشی
سہج سہج سرگوشی


چور چور دروازے
کون چھپ کے آیا ہے


آرزو نے جنگل میں
راستہ بنایا ہے


جھینپتے ہوئے آنگن
نے درخت سے مل کر


کچھ نہ کچھ چھپایا ہے
آسماں کی کھڑکی میں


سکھ بھری شرارت سے
چاند مسکرایا ہے


چاند مسکرایا ہے
چاندنی نہائی ہے


خوشبوؤں نے موسم میں
آگ سی لگائی ہے


عشق نے محبت کی
آنکھ چومنا چاہی


اور ہوا کے حلقے میں
شوخ سی نزاکت سے


شاخ کمسائی ہے
رات کا سمندر ہے


رات بھی محبت کی
بات کا اجالا ہے


رات بھی محبت کی
بات کے سویرے میں


زندگی کے گھیرے میں
روح ٹمٹمائی ہے


وصل جھلملایا ہے
دل نے بند سینے میں


حشر سا اٹھایا ہے
کون چھپ کے آیا ہے

محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے


محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپناقدرت نے رکھاہے 
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
ا سے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقین کی آخر ی حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو 
نگاہوں سے ٹپکتی ہو ‘ لہو میں جگمگاتی ہو
ہزاروں طرح کے دلکش ‘ حسیں ہالے بناتی ہو 
ا سے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بار ہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے 
محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑ نے کی گھڑ ی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے


کہو مجھ سے محبت ہے 
کہو مجھ سے محبت ہے 
تمہیں مجھ سے محبت ہے


سمندر سے کہیں گہری ‘ستاروں سے سوا روشن
پہاڑوں کی طرح قائم ‘ ہوا ئوں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں ‘ وفا کے استعار ے ہیں ہمارے ہیں
ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں سنہر ا دن نکلتا ہے
محبت جس طرف جائے ‘ زمانہ ساتھ چلتا ہے 
کچھ ایسی بے سکو نی ہے وفا کی سر زمیوں میں
کہ جو اہل محبت کی سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو‘ کہ جیسے ہاتھ میں پاراکہ جیسے شام کاتارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں ر ہتی ہے ‘
گماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے الفت کا !
یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خد شوں میں رہتی ہے ‘
محبت کے مسافر زند گی جب کا ٹ چکتے ہیں
تھکن کی کر چیاں چنتے ‘ وفا کی اجر کیں پہنے
سمے کی رہگزر کی آخری سر حد پہ رکتے ہیں
تمہیں مجھ سے محبت ہے
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھا م کر
دھیرے سے کہتا ہے
یہ سچ ہے نا 
ہماری زند گی اک دو سرے کے نام لکھی تھی 
دھند لکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے
ا سی کا نام چاہت ہے !
تمہیں مجھ سے محبت تھی
تمہیں مجھ سے محبت ہے
محبت کی طبعیت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے !

محبت اک سمندر ہے


 محبت اک سمندر ہے
کہ جتنا بھی کوئی ڈوبے
کنارے پر ہی رہتا ہے

کیسے بتائوں میں تمیھں



 کیسے بتائوں میں تمیھں
میرے لئے تم کون ہو؟

کیسے بتائوں میں تمیھں
تم دھڑکنوں کا گیت ہو
جیون کا تم سنگیت ہو

تم زندگی
تم بندگی
تم روشنی
تم تازگی
تم ہر خوشی

تم پیارہو
تم پریت ہو
من ِمیت ہو

آنکھوں میں تم
یادوں میں تم
سانسوں میں تم

آہوں میں تم
نیندوں میں تم
خوابوں میں تم

تم ہو میری ہر بات میں
تم ہو میرے دن رات میں

صبح میں تم
شام میں تم
سوچ میں تم


میرے لئے پانا بھی تم
میرے لئے کھونا بھی تم

 میرے لئے ہسنا بھی تم

میرے لئے رونا بھی تم

اور جاگنا سونا بھی تم
جائو کہیں
دیکھوں کہیں
تم ہو وہاں
تم ہو وہیں

کیسے بتائوں میں تمھیں؟
تم بن تو میں کچھ بھی نہی

کیسے بتائوں میں تمھیں؟
میرے لئے تم کون ہو؟

یہ جو تمھارا روپ ہے
یہ زندگی کی دھوپ ہے

چندن سے ترشا ہے بدن
بہتی ہے جسمیں اک اگن

یہ شوخیاں
یہ مستیاں
تم کوہوائوں سے ملیں
زولفیں کھٹائوں سے ملیں

ہونٹوں میں کلیاں کھل گئیں
آنکھوں کو جھیلیں مل گئیں

چہرے میں سمٹی چاندنی
آواز میں ہے راگنی

شیشے کے جیسا انگ ہے
پھولوں کے جیسا رنگ ہے

ندیوں کے جیسے چال ہے
کیا حسن ہے کیا حال ہے

کیسے بتائوں میں تمیھں
  میرے لئے تم کون ہو؟

سنو! قسمت سے لڑنے کی کبھی کوشش نہیں کرتے

سنو! قسمت سے لڑنے کی

کبھی کوشش نہیں کرتے

مقدر جب مخالف ہو
دعائیں بے اثر جائیں

تو ایسے میں بغاوت کی
...کبھی کوشش نہیں کرتے

کسی کے ساتھ چلنے کی
کسی کے دل میں بسنے کی
کبھی خواہش نہیں کرتے

کسی اک شخص کی خاطر
سبھی سے دور ہو جانا

کہاں کی یہ محبت ہے

محبت یہ نہیں ہوتی

محبت دل میں ہوتی ہے

محبت عکس ہے رب کا

جبھی یہ مر نہیں سکتی

ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
ہمیشہ ساتھ چلتی ہے...

تسبیح محبت

مکمل دو ہی دانوں پر

یہ تسبیح محبت ہے

 جو آئے تیسرا دانا
یہ ڈوری ٹوٹ جاتی ہے

 متعین وقت ہوتا ہے
محبت کی نمازوں کا

 ادا جن کی نکل جائے
قضا بھی چھوٹ جاتی ہے

 محبت کی نمازوں میں
امامت ایک کو سونپیں

 اسے تکنے
اُسے تکنے سے 
نیت ٹوٹ جاتی ہے

 محبت دل کا سجدہ ہے
جو ہے توحید پر قائم

 نظر کے شرک والوں سے
 محبت روٹھ جاتی ہے

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

ترے فراق کے لمحے

شمار کرتے ہوئے
بکھر چلے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے

تو میں بھی خوش ہوں
کوئی اُس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کر تے ہوئے

تمہیں خبر ہی نہیں ہے
کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے

میں مسکراتا ہوا
آئینے میں اُبھروں گا
وہ رو پڑیں گے اچانک سنگھار کرتے ہوئے

مجھے خبر تھی
کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا
سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے

یہ کہہ رہی تھی
سمندر نہیں آنکھیں ہیں
میں اُن میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے

بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں
وہ میں ہی جانتا ہوں
تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے

ربا سچیا

ربا سچیا توں تے آکھیا سی

جا اوے بندیا جگ دا شاہ ایں توں

ساڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں
ساڈا نیب تے عالیجاہ ایں توں

ایس لارے تے ٹور کدی پچھیا ای
کی ایس نمانے نال بیتیاں نیں

کدی سار وی لئ او رب سائیاں
ترے شاہ نال جگ کی کیتیاں نیں

کتے تاندلی مال پٹوار دی اے
کدے تو نس پلس سرکار دی اے

ایو یں ھڈاں اچ کلپے جاں مری
جیو یں پھاھی اچ کنج کرلا و ندی اے

چنگا شاہ بنایا ای رب سائیاں
پولے کھاندیاں وار نہ آؤ ندی اے

مینوں شاہی نئیں چائیدی او رب سائیاں
میں تے عزت دا ٹکر منگدا ہاں

مینوں تانگ نیئں محلاں ماڑ یاں دی
میں تے جیون دی نکڑ منگدا ھاں

تو میری منے تے تیریاں میں مناں
تیری سوں جے اک وی گل موڑاں

جے اے تانگ نئ پجدی تے رب سائیاں
فیر میں جاواں تے رب کوئی ہور لوڑاں

مقدس اندھیرا


آج سارے چراغ گل کر دو 
آج اندھیرا بہت مقدس ہے 

مذہبِ عشق


تا بہ مقدور انتظار کیا
دل نے اب زور بے قرار کیا


دشمنی ہم سے کی زمانے نے
کہ جفاکار تجھ سا یار کیا


یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا


صد رگِ جاں کو تاب دے باہم
تیری زلفوں کا ایک تار کیا


ایک ناوک نے اس کی مژگاں کے
طائرِ سدرہ تک شکار کیا


ہم فقیروں سے بے ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا


سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہبِ عشق اختیار کیا

پیار

تجھے مجھ سے

مجھے تجھ سے

جو بہت ہی پیار ہوتا

نہ تجھے قرار ہوتا
نہ مجھے قرار ہوتا

ترا ہر مرض الجھتا
مری جانِ نا تواں سے
جو تجھے زکام ہوتا
تو مجھے بخار ہوتا

جو میں تجھ کو یاد کرتا
تجھے چھینکنا بھی پڑتا
مرے ساتھ بھی یقیناً
یہی بار بار ہوتا

کسی چوک میں لگاتے
کوئی چوڑیوں کا کھوکھا
ترے شہر میں بھی اپنا
کوئی کاروبار ہوتا

غم و رنجِ عاشقانہ
نہیں کیلکولیٹرانہ
اسے میں شمار کرتا
جو نہ بے شمار ہوتا

وہاں زیرِ بحث آتے
خد و خال و خوئے خوباں
غمِ عشق پر جو انور
کوئی سیمینار ہوتا

اسے بھول جا



کہاں آ کے رُکنے تھے، راستے
کہاں موڑ تھا، اُسے بُھول جا
وہ جو مل گیا اُسے یاد رکھ،
جو نہیں ملا اُسے بُھول جا

وہ ترے نصیب کی بارشیں
کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر مری بات سُن،
اُسے بُھول جا، اُسے بُھول جا
...
میں تو گُم تھا تیرے ہی دھیان میں،
تِری آس، تیرے گمان میں
صبا کہہ گئی مرے کان میں،
میرے ساتھ آ، اُسے بُھول جا

کِسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم،
ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بُھلا دیا
تُوبھی مُسکرا، اُسے بُھول جا

کہیں چاکِ جاں کا رفو نہیں
، کسی آستیں پہ لہو نہیں
کہ شہیدِ راہِ ملال کا نہیں
خوں بہا، اُسے بُھول جا

کیوں اَٹا ہوا ہے غبارمیں،
غمِ زندگی کے فشار میں
وہ جو درج تھا ترے بخت میں،
سو وہ ہو گیا، اُسے بُھول جا

نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی،
نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کس لیے،
ترا جاگنا، اُسے بُھول جا

یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا،
اسے دیکھ، اس پہ یقین نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل،
سرِ آئینہ، اُسے بُھول جا

جو بساطِ جاں ہی اُلٹ گیا،
وہ جو راستے سے پلٹ گیا
اُسے روکنے سے حصول کیا،
اُسے مت بُلا، اُسے بُھول جا

تو یہ کس لیے شبِ ہجر کے
اُسے ہر ستارے میں دیکھنا
وہ فلک کہ جس پہ ملے تھے ہم،
کوئی اور تھا، اُسے بُھول جا

تجھے چاند بن کے مِلا تھا جو،
ترے ساحلوں پہ کِھلا تھا جو
وہ تھا ایک دریا وصال کا،
سو اُتر گیا، اُسے بُھول جا

ابھی سوچیں تو کیا سوچیں


ہر اک جانب اداسی ہے
ابھی سوچیں تو کیا سوچیں
ہر اک سو ہو کا عالم ہے
ابھی بولیں تو کیا بولیں
ہر اک انسان پتھر ہے
ابھی دھڑکیں تو کیا دھڑکیں


فضا میں نیند طای ہے
ابھی جاگیں تو کیا جاگیں
ہر اک مقتل کی شہ رگ میں
لہو کی لہر جاری ہے
ابھی دیکھیں تو کیا دیکھیں


ہر اک انسان کا سایہ
ابھی مٹی پہ بھاری ہے
ابھی لکھیں تو کیا لکھیں

وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں



وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
وہ فاصلے بھی گئے
اب وہ قربتیں بھی گئیں

دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز
محبتیں تو گئی تھیں
عداوتیں بھی گئیں

لُبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے
ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں

غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا
وہ جراتیں بھی گئیں
وہ جسارتیں بھی گئیں

نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل
ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں

دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیارسو
اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں

ہوئے ہیں جب سے برہنہ ضرورتوں کے بدن
خیال و خواب کی پنہاں نزاکتیں بھی گئیں

ہجوم سرو و سمن ہے نہ سیل نکہت و رنگ
وہ قامتیں بھی گئیں
وہ قیامتیں بھی گئیں

تیری آمد کا انتظار کیا

تیری آمد کا انتظار کیا۔
رائیگاں موسم بہار کیا


آییٔنہ ھم کو منہ چڑاتا ہے
کس زمانے کا اعتبار کیا


دل پہ ہے بوجھ تیری فرقت کا
جاں پہ دنیا کا غم سوار کیا


ٹوٹ جاۓ جمودِ نظٌارہ
سو ، نگاہوں کو اشکبار کیا


دشتِ تنہایٔ میں چراغاں کر
عمر بھر جشنِ یادِ یار کیا


ہم نے بھی ناصحوں سے تنگ آکر
مذہبِ عشق اختیار کیا


سارے غم ڈوبتے رہے پیچھے
ہم نے جب نیلِ ھجر پار کیا


عشق ایک ایسی آزمایٔش ہے
ہم نے توبہ پہ انحصار کیا

Saturday, November 26, 2011

سوئے ہوئے تھے سارے لوگ


عشرتِ جاں میں مست تھے
کھوئے ہوئے تھے سارے لوگ
کیسی عجیب نیند تھی
سوئے ہوئے تھے سارے لوگ


کس کو خبر تھی، حشر کی
کیسی گھڑی ہے ہر طرف
جاگ کے دیکھتے ہیں کیا
آگ لگی ہے ہر طرف


ساری زمیں جلی ہوئی
سارا جہاں جلا ہوا
اُس کی گلی میں خوں ہی خوں
اِس کا مکاں جلا ہوا
سب کا یقیں لہو لہو
سب کا گماں جلا ہوا
محفل ِ دل لٹی ہوئی
قریہء جاں جلا ہوا
سود و زیاں کے عہد میں
سود و زیاں جلا ہوا


ایسا وہ حشر تھا بپا
ہوش سبھی کے کھو گئے
باغ تمام جل گئے
شہر تباہ ہو گئے
راکھ کے ڈھیر پر جنہیں
رونا تھا، وہ بھی رو گئے


ایسی عجیب نیند تھی
لوگ دوبارہ سو گئے


آگ لگی ہے ہر طرف

زندگی سے ڈرتے ہو؟


ن م راشد کی نظم
زندگی سے ڈرتے ہو؟


'زندگی تو تم بھی ہو'
زندگی تو ہم بھی ہیں
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو،
آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زبان بھی ہے،
آدمی بیاں بھی ہے
اس سے تم نہیں ڈرتے! 


حروف اور معنی کے رشتہِ ہائے آہن سے 
آدمی ہے ...وابستہ


آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے! 
اِن کہی'سے ڈرتے ہو' 
جو ابھی نہیں آئی، 
اُس گھڑی سے ڈرتے ہو


اس گھڑی کی آمد کی
آگہی سے ڈرتے ہو 


پہلے بھی تو گزرے ہیں دور نارسائی کے،
بے ریا خدائی کے 
پھر بھی یہ سمجھتے ہو،
ہیچ آرزومندی
یہ شبِ زباں بندی
ہے رہِ خداوندی


تم مگر یہ کیا جانو 
لب اگر نہیں ہلتے،
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں،
راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں،
صبح کی اذاں بن کر


روشنی سے ڈرتے ہو؟
روشنی تو تم بھی ہو،
روشنی تو ہم بھی ہیں
روشنی سے ڈرتے ہو
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایا تھا
پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر،
خاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
اژدھامِ انساں سے
فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہِ شوق میں جیسے
راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے
آدمی چھلک اٹھے
آدمی ہنسے ۔۔۔ دیکھو،
شھر پھر بسے ۔۔۔ دیکھو


تم ابھی سے ڈرتے ہو؟

کافر


کعبے میں مسلماں کو بھی کہہ دیتے ہیں کافر
میخانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے
کیا تجھ کو جہاں والے ستمگر نہیں کہتے 
کہتے تو ہیں لیکن ترے منہ پر نہیں کہتے

سوچی پئے آں ہُن کی کریے


پپو سانوں تنگ نہ کر تُوں
بڑے ضروری کم لگے آں
سوچی پئے آں ہُن کی کریے

روٹی شوٹی کھا بیٹھے آں
لسی شسی پی بیٹھے آں
حقے دا کش لا بیٹھے آں
پونج پانجھ کے اندروں باہروں
پانڈے وی کھڑکا بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہُن کی کریے

ویکھ لیاں نے سب اخباراں
سبھے ورقےتُھل بیٹھے آں
پڑھ بیٹھے آں سارے اکھر
سارے حرف سنا بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہُن کی کریے

کیسے کیسے اسلحے بن گئے
وڈے وڈے مسئلے بن گئے
وڈے شہر وسا بیٹھے آں
سارا چین گنوا بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہُن کی کریے

رزق، سیاست ، عشق کوِتا
کُجھ وی خالص رہن نہ دِتا
ساری کیڈھ ونجا بیٹھے آں
دودھ وچ سرکہ پا بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہُن کی کریے

جی کردا سی ووٹاں پائیے
مارشل لاء توں جاں چھڈائیے
ووٹاں شوٹاں پا بیٹھے آں
اے جمہوری رولا رَپا
کنے سال ہنڈا بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہُن کی کریے

سودا کوئی پجھدا ناہیں
کوئی رستہ سُجھدا ناہیں
رستے وچ آ بیٹھے آں
سوچی پئے آں ہُن کی کریے

کمال


میں نے کہا کمال ہو
گر تم مجھے بھلا سکو
میں نے تو صرف بات کی
اس نے کمال کر دیا

ہم اہلِ کوفہ


ہم اہلِ کوفہ یزیدیت کی صفَوں میں شامل
تری ہلاکت کے منتظر ہیں

ہماری آنکھوں میں اپنے گھر ہیں
ہمارے دل میں ہمارے ڈر ہیں

ہم اہلِ کوفہ ، ہزار سالوں سے
بے بسی کا نصاب لے کر

چمکتے سورج کا خواب لے کر
دیارِ دل میں چھُپے ہوئے ہیں

ہم اپنی دھڑکن سے ڈرنے والے
کھلو نے لے کر بہلنے والے

ترے کفن پر ستارے چُن کر
تری بقا کے ترانے سُن کر

تجھے لحد میں اُتار دیں گے

کشتی کا ملاح بھنور ہے


سو فیصد ناکام سفر ہے
کشتی کا ملاح بھنور ہے


کیسے سوداگر ہیں ہم بھی
اپنا جوتا اپنا سر ہے


جگنو رستے بھول گئے ہیں
یہ ایسا اندھیر نگر ہے


جیسے چاہے اسے اجاڑے
یہ تو اس کا اپنا گھر ہے


نوچ لو سوچنے والی آنکھیں
کاٹ دو جو بھی دست ِ ہنر ہے


جھوٹ، فریب، دغا اور دھوکہ
یہ تو اس کا رخت ِ سفر ہے


جس کی چھاؤں میں جا بیٹھے ہم
وہ تو آدم خور شجر ہے