سو فیصد ناکام سفر ہے
کشتی کا ملاح بھنور ہے
کیسے سوداگر ہیں ہم بھی
اپنا جوتا اپنا سر ہے
جگنو رستے بھول گئے ہیں
یہ ایسا اندھیر نگر ہے
جیسے چاہے اسے اجاڑے
یہ تو اس کا اپنا گھر ہے
نوچ لو سوچنے والی آنکھیں
کاٹ دو جو بھی دست ِ ہنر ہے
جھوٹ، فریب، دغا اور دھوکہ
یہ تو اس کا رخت ِ سفر ہے
جس کی چھاؤں میں جا بیٹھے ہم
وہ تو آدم خور شجر ہے
No comments:
Post a Comment