Saturday, April 28, 2012

چوکھٹ پہ سر

ایک امی لقب
جب کھلے اس کے لب
اسکے لہجے سے سب

بے چراغی کے موسم میں 
سہمے ہوئے بھی دِیئے جل اُٹھے

روشنی روشنی ہر فضا ہوگئی
رنگت شہرِ جاں کیا سے کیا ہو گئی

وہ یتیمی کی چادر تھا اوڑھے ہوئے
جِس کی چھائوں میں سب بے نوا آگئے

اسکے قدموں میں تھی خاک خورشید کی
جسکے دامن میں سب انبیاء آگئے

کتنے موسٰی کے ہاتھوں میں آیا عصا
کتنے عیٰسی کو دست شفا مل گیا

ٹوٹ کر رہ گیا اسم کا دیوتا
بے خدائوں کو آخر خدا مل گیا

اسکی چوکھٹ پہ رکھ دوں میں سر اس طرح
کوئی جوتی ہو دہلیز پہ جس طرح

کون لکھے گا

مہتاب کو چہرے  کا بدل کون لکھے گا
اب میرے سوا تُجھ پہ غزل کون لکھے گا


میں سوچتا رہتا ہوں اگر لکھ نہ سکا میں
پھر مسئلہ ءِعِشق کا حل کون لکھے گا


جیسے بھی ہیں اھوال مھبت کے میری جاں
میں لکھ نہ سکا آج تو کل کون لکھے گا

بات کرے گا

دھلیز پہ پہنچوں گا تو سر بات کرے گا
خاموش فضا ہو گی تو گھر بات کرے گا


موسم کے حوادث سے تناور نہیں لیکن
کچھ روز میں آندھی سے شجر بات کرے گا


اِس وقت بدن پر ہے تو قیمت نہیں اِس کی
اُترے گا میرے تن سے تو سر بات کرے گا


اب مجھ میں وضاحت کی ذرا تاب نہیں ہے
اب تجھ سے میرا دیداءِ تر بات کرے گا


وہ ہونٹ جو مل جائیں تو دیکھنا راشد
نس نس میں محبت کا اثر بات کرے گا

نہیں آتے

اغراض کے پہلو بھی میسر نہیں آتی
مفلس کے جنازے میں تونگر نہیں آتے


حائل ہوئی اس طور محلوں کی بُلندی
اب دِن کے اُجالے بھی میرے گھر نہیں آتے


حالات کے ماروں میں کہاں خندا مزاجی
سوکھی ہوئی شاخوں پہ گُلِ تر نہیں آتے

دِل ڈوبنے لگتا تھا کبھی اشک رواں سے
اب خون بھی بہتا ہے تو چکر نہیں آتے

مسافر کہاں گیا

کیسی ہوا چلی ہے، سرِ راہ گزارِ شوق
منزل یہ پوچھتی ہے، مسافر کہاں گیا

خدا دیکھ رہا ہے

ظالم تو فقط اپنی انا دیکھ رہا ہے
میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا دیکھ رہا ہے


پھل دار درخت اپنی جوانی پہ ہے نازاں
سوکھا ہوا ایک درخت گھٹا دیکھ رہا ہے


بجھنا تو مقدر ہے مگر لو کی لپک سے
ہے تیز ہوا کتنی دیا دیکھ رہا ہے


دعواہ تھا کہ موجوں سے لڑے گا وہ میرے ساتھ
میں ڈُوب رہا ہوں وہ کھڑا دیکھ رہا ہے


کیوں دیکھے مجھے خواہشِ امداد سے کوئی
راضی ہوں کہ مجھے میرا خدا دیکھ رہا ہے

اہل حق

یہ فقط عظمت کردار کے ڈھب ہوتے ہیں
فیصلے جنگ کے تلوار سے کب ہوتے ہیں
جھوٹ تھا دَھر میں کِس درجہ زیادہ مگر
اہل حق ہوں تو بہتر بھی غضب ہوتے ہیں

لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

ہمیں تو اس پہ یقیں اس پہ اعتماد رہا
کہ لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

جو ہونٹ کٹ کے گریں گے وہ بن کے سنگِ نوا
ستم گروں کی فصیلِ ستم گِرا دیں گے


جو آنکھ آج بہے گی وہ سِیلِ نُور صِفت
تمام تِیرگیءِ شب کے رنگ اڑا دے گی


جو دل سے آہ ہوائوں میں ہو گئی شامل
وہ کل ہر ایک چراغ سِتم بجھا دے گی


جو ہاتھ آج کٹیں گے نقیبِ جاں ہوںگے
جو سَر زمیں پہ گریں گے آسماں ہوںگے


انہیں خبر ہی نہیں وقت کے بدلنے سے
خاموش کوہ بھی شُعلے اُگلنے لگتے ہیں


جو دوسروں کے گھروں کو جلانا چاہتے ہیں
خُد اپنی آگ کی حِدت سے جلنے لگتے ہیں


ہمیں تو اپنے بدن کی نہِیں پرواہ
ہمیں عزیز ہے آواز کی بقا یارو


عضو مٹائیں گے آخر کہاں تلک ہم کو
اُدھر ہے آتِش نمرود اِدھر خُدا یارو


تمام زخم ہمیں یاد ہیں حریفوں کے


جو تیر نکلے وہ سوئے کماں نہیں جاتا
لہو کا بہنا کبھی رائگاں نہیں جاتا

یاد

کسی کے یوں بچھڑنے پر
کسی کی یاد آنے پر
بہت سے لوگ روتے ہیں
کہ رونا اک روایت ہے
محبت کی علامت ہے
میں ان پرپیچ راہوں پر
غمِ جاناں سے گھبرا کر
روایت توڑ جاتا ہوں
تمھاری یاد آنے پر
میں اکثر مسکراتا ہوں

یوں ہے

عشق ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

جیسے کوئی درِدل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے

تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے، یوں ہے

اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے

تو نے دیکھی ہی نہیں دشتَ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرئہ خوں ہے، یوں ہے

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے کہ یوں ہے، یوں ہے

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلہءِ کن فیکوں ہے، یوں ہے

نام تمھارے

ساحل، ریت
سمندر،لہریں
بستی،جنگل
صحرا،دریا
خوشبو، موسم
پھول،دریچے
بادل،سورج
چاند،ستارے

آج یہ سب کچھ نام تمھارے

خواب کی باتیں
یاد کے قصے
سوچ کے پہلو
نیند کے لمحے
درد کے آنسو
چین کے نغمے

اڑتے وقت کے بہتے دھارے
آج یہ سب کچھ نام تمہارے

روح کی آہٹ
جسم کی جنبش
خون کی گردش
سانس کی لرزش
آنکھ کا پانی

چاہت کے یہ عنوان سارے
آج سےسب کچھ نام تمھارے