ایک امی لقب
جب کھلے اس کے لب
اسکے لہجے سے سب
بے چراغی کے موسم میں
سہمے ہوئے بھی دِیئے جل اُٹھے
روشنی روشنی ہر فضا ہوگئی
رنگت شہرِ جاں کیا سے کیا ہو گئی
وہ یتیمی کی چادر تھا اوڑھے ہوئے
جِس کی چھائوں میں سب بے نوا آگئے
اسکے قدموں میں تھی خاک خورشید کی
جسکے دامن میں سب انبیاء آگئے
کتنے موسٰی کے ہاتھوں میں آیا عصا
کتنے عیٰسی کو دست شفا مل گیا
ٹوٹ کر رہ گیا اسم کا دیوتا
بے خدائوں کو آخر خدا مل گیا
اسکی چوکھٹ پہ رکھ دوں میں سر اس طرح
کوئی جوتی ہو دہلیز پہ جس طرح
جب کھلے اس کے لب
اسکے لہجے سے سب
بے چراغی کے موسم میں
سہمے ہوئے بھی دِیئے جل اُٹھے
روشنی روشنی ہر فضا ہوگئی
رنگت شہرِ جاں کیا سے کیا ہو گئی
وہ یتیمی کی چادر تھا اوڑھے ہوئے
جِس کی چھائوں میں سب بے نوا آگئے
اسکے قدموں میں تھی خاک خورشید کی
جسکے دامن میں سب انبیاء آگئے
کتنے موسٰی کے ہاتھوں میں آیا عصا
کتنے عیٰسی کو دست شفا مل گیا
ٹوٹ کر رہ گیا اسم کا دیوتا
بے خدائوں کو آخر خدا مل گیا
اسکی چوکھٹ پہ رکھ دوں میں سر اس طرح
کوئی جوتی ہو دہلیز پہ جس طرح