Tuesday, November 29, 2011

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو


میرے ہی لہو پر
گذر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو؟

دن ایک ستم
ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو
دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

ہم خاک نشیں
تم سخن آراہءِ سرِ بام
پاس آکر ملو ، دور سے کیا بات کرو ہو

ہم کو جو ملا ہے
وہ تمہیں سے تو ملا ہے
ہم اور بھلا دیں تمہیں، کیا بات کرو ہو

یوں تو منہ پھیر کے
دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پرے ہے تو ، مدارات کرے ہو؟

دامن پہ کوئی داغ
نہ خنجر پہ کوئی چھینٹ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بکنے دو عاجز کو
کے بولے ہے
بکے ہے
دیوانہ ہے
دیوانے سے کیا بات کرو ہو؟

No comments:

Post a Comment