درد کی شام سخاوت پہ اتر آئی ہے
دھوپ سی قریہ ء وحشت پہ اتر آئی ہے
کوئی پیغام سا بھیجا ہے کسی نے شاید
اک اڑن طشتری سی چھت پہ اتر آئی ہے
روز طغیانی کی آواز بلاتی تھی اُسے
آنکھ دریا میں سکونت پہ اُتر آئی ہے
سرسراتے ہوئے پردے میں عجب گونج سی تھی
میری تنہائی بغاوت پہ اُتر آئی ہے
اتنی مدہم تو نہ تھی زرد مناظر کی صدا
ساری بینائی سماعت پہ اُتر آئی ہے
جسم جلتا ہے اندھیرے کے کفن میں لپٹا
رات دوزخ کی تمازت پہ اُتر آئی ہے
دِل میں دھیمی سی کوئی آنچ دبا رکھی تھی
بجھتے بجھتے بھی قیامت پہ اُتر آئی ہے
جیسے تسخیر کئے بیٹھی ہے دونوں عالم
آگہی اپنی عبادت پہ اتر آئی ہے
دھوپ سی قریہ ء وحشت پہ اتر آئی ہے
کوئی پیغام سا بھیجا ہے کسی نے شاید
اک اڑن طشتری سی چھت پہ اتر آئی ہے
روز طغیانی کی آواز بلاتی تھی اُسے
آنکھ دریا میں سکونت پہ اُتر آئی ہے
سرسراتے ہوئے پردے میں عجب گونج سی تھی
میری تنہائی بغاوت پہ اُتر آئی ہے
اتنی مدہم تو نہ تھی زرد مناظر کی صدا
ساری بینائی سماعت پہ اُتر آئی ہے
جسم جلتا ہے اندھیرے کے کفن میں لپٹا
رات دوزخ کی تمازت پہ اُتر آئی ہے
دِل میں دھیمی سی کوئی آنچ دبا رکھی تھی
بجھتے بجھتے بھی قیامت پہ اُتر آئی ہے
جیسے تسخیر کئے بیٹھی ہے دونوں عالم
آگہی اپنی عبادت پہ اتر آئی ہے
No comments:
Post a Comment