Saturday, April 28, 2012

بات کرے گا

دھلیز پہ پہنچوں گا تو سر بات کرے گا
خاموش فضا ہو گی تو گھر بات کرے گا


موسم کے حوادث سے تناور نہیں لیکن
کچھ روز میں آندھی سے شجر بات کرے گا


اِس وقت بدن پر ہے تو قیمت نہیں اِس کی
اُترے گا میرے تن سے تو سر بات کرے گا


اب مجھ میں وضاحت کی ذرا تاب نہیں ہے
اب تجھ سے میرا دیداءِ تر بات کرے گا


وہ ہونٹ جو مل جائیں تو دیکھنا راشد
نس نس میں محبت کا اثر بات کرے گا

No comments:

Post a Comment