Tuesday, July 3, 2012

ڈوبنا بحر غم میں سراپائے عشق ہے

پردہ ہٹ گیا تو بھرم نہ رہیگا باقی
حسن تو حسن ہے عشق تو عشق ہے

قیس و فرہاد کیا نغمئے جاناں کیا
معرفت الہی خدائے عشق ہے

زمیں پہ رہ کے بھی رہےپورا افلاکی
وہ فرد نہیں بلکہ زمانائے عشق ہے

بغض باطل سے ہے بنیاد ایماں کی
عداوت شیطاں سے صدائے عشق ہے

تڑپ مومن کو ہے اخروی مکاں کی
اک تعلق رب سے تمنائے عشق ہے

کائنات میں پوری وہ نالہ فریاد کہاں
تڑپ یہ کسک سوز ہائے عشق ہے

حیات میدان کارزار ابتدائے عشق ہے
اجل یار مومن انتہائے عشق ہے

ڈوبنا بحر غم میں سراپائے عشق ہے
عقل ہیچ ہے جنوں خاک پائے عشق ہے

No comments:

Post a Comment