محبت خود بتاتی ہے
کہاں کس کا ٹھکانہ ہے
کسے آنکھوں میں رکھنا ہے
کسے دل میں بسانا ہے
رہا کرنا ہے کس کو
اور کسے زنجیر کرنا ہے
مٹانا ہے کسے دل سے
کسے تحریر کرنا ہے
گھروندا کب گرانا ہے
کہاں تعمیر کرنا ہے
اسے معلوم ہوتا ہے
سفر دشوار کتنا ہے
کسی کی چشمِ گریہ میں
چھپا اقرار کتنا ہے
کہاں کس کا ٹھکانہ ہے
کسے آنکھوں میں رکھنا ہے
کسے دل میں بسانا ہے
رہا کرنا ہے کس کو
اور کسے زنجیر کرنا ہے
مٹانا ہے کسے دل سے
کسے تحریر کرنا ہے
گھروندا کب گرانا ہے
کہاں تعمیر کرنا ہے
اسے معلوم ہوتا ہے
سفر دشوار کتنا ہے
کسی کی چشمِ گریہ میں
چھپا اقرار کتنا ہے
شجر جو گرنے والا ہے
وہ سایہ دار ہے کتنا
No comments:
Post a Comment