کسے خبر ہے کہ عمر بس
اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے
۔
کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے
کس خوشی میں لپٹ رہی ہے
۔
عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی
اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں
۔
عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ
اوروں میں بٹ رہی ہے
۔
میں اس کو ہر روز
بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا
۔
سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے
تمہاری آواز کٹ رہی ہے
۔
مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے
اور سبز ہونے سے کیا کسی کو
۔
یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے
جو مجھ سے لپٹ رہی ہے
۔
یہ وقت آنے پہ اپنی اولاد
اپنے اجداد بیچ دے گی
۔
جو فوج دشمن کو اپنا سالار
گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے
۔
سو اس تعلق میں جو غلط فہمیاں تھیں
اب دور ہو رہی ہیں
۔
رکی ہوئی گاڑیوں کے چلنے کا وقت ہے
دھندھ چھٹ رہی ہے
۔
[تہذیب حافی]
اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے
۔
کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے
کس خوشی میں لپٹ رہی ہے
۔
عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی
اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیں
۔
عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ
اوروں میں بٹ رہی ہے
۔
میں اس کو ہر روز
بس یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا
۔
سنو یہاں کوئی مسئلہ ہے
تمہاری آواز کٹ رہی ہے
۔
مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے
اور سبز ہونے سے کیا کسی کو
۔
یہ بیل شاید کسی مصیبت میں ہے
جو مجھ سے لپٹ رہی ہے
۔
یہ وقت آنے پہ اپنی اولاد
اپنے اجداد بیچ دے گی
۔
جو فوج دشمن کو اپنا سالار
گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے
۔
سو اس تعلق میں جو غلط فہمیاں تھیں
اب دور ہو رہی ہیں
۔
رکی ہوئی گاڑیوں کے چلنے کا وقت ہے
دھندھ چھٹ رہی ہے
۔
[تہذیب حافی]
No comments:
Post a Comment