Monday, June 27, 2022

عہدِ جوانی میں ہم نےدیکھے تھے کچھ خواب سہانے

عہدِ جوانی میں ہم نے
دیکھے تھے کچھ خواب سہانے
ایک نئی دنیا کے فسانے
ایک نئی دنیا کے ترانے
ایسی دنیا جس میں کوئی
دکھ نہ جھیلے بھوک نہ جانے
ایک طرف تھی جنتا ساری
ایک طرف تھے چند گھرانے
ایک طرف تھے بھوکے ننگے
ایک طرف قاروں کے خزانے
ایک طرف تھی مائیں اور بہنں
ایک طرف تحصیل اور تھانے
ایک طرف تھی تیسری دنیا
ایک طرف بے باد پرانے
ایک طرف سچل اور باہُو
ایک طرف مُلا اور مسلک
ایک طرف تھے ہیر اور رانجھا
ایک طرف قاضی اور چُوچک
ایک طرف امرت کے دھارے
ایک طرف تھے دھارے جس کے
ساری دنیا پوچھ رہی تھی
بولو اب تم ساتھ ہو کس کے
ہم یہ باور کر بیٹھے تھے
سب ساتھی ہیں مزدوروں کے
سب حامی ہیں مجبوروں کے
سب ساتھی ہیں محکوموں کے
چین نے جب اک جست لگائی
یم بھی اس کے ساتھ چلے تھے
چُو نے جب آواز اٹھائی
ہاتھ میں ڈالے ہاتھ چلے تھے
مذہب کی تفریق نہں تھی
اور ہم سب ایک ہوئے تھے
.
 شاعر:  اعتزاز احسن

No comments:

Post a Comment