ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی
جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم
ہم چلےآئے لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرفِ غزل دل میں قندیلِ غم
اپناغم تھا گواہی تیرے حُسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری اُلفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جاملے
قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
شاعری کا تعلق موسم، مزاج، عاشقی، اداسی، محبت، ، جنوں، سوچ، خیال، ، ارادہ، وہم، شوق اور انبساط سے ہے۔ اسکی تقسیم بھی انہی عنوانات کے تحت ہی ہوتی ہے۔ اس بلاگ میں منتخب شاعری کو عنوانات کے تحت مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مکمل احاطہ کے لیئے تو ایک عمر درکار ہے۔ مگر جتناہم سے مرتب ہو سکا، آپکی خدمت میں حاضر ہے۔ انشاء اللہ آپکی آراء کی مدد سےبہتر سے بہتر کا سفر جاری رہےگا۔ عاطف تسنیم خان
Wednesday, February 28, 2024
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے . فیض احمد فیض
Labels:
فیض احمد فیض
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment