گلہ نمو کا نہ دل میں خزاں کا غم رکھا
میں جس کی شاخ ہوں اس پیڑ کا بھرم رکھا
وہ ایک غم ہی تو دلبستگی کا ساماں ہے
تمام عمر ہمیں جس نے تازہ دم رکھا
کچھ اس لئیے بھی میں کرتا ہوں احترام اس کا
سر آسمان کو چُھو کر بھی اس نے خَم رکھا
مجھے خبر ہے کہ یہ جنس ہے انمول یہاں
اسی لئیے نہ کبھی دل کا مول کم رکھا
تھا ایک بار - عجب سر پہ بے امانی کا
جو ماں کے بعد عدیل ابکے گھر قدم رکھا
شاعری کا تعلق موسم، مزاج، عاشقی، اداسی، محبت، ، جنوں، سوچ، خیال، ، ارادہ، وہم، شوق اور انبساط سے ہے۔ اسکی تقسیم بھی انہی عنوانات کے تحت ہی ہوتی ہے۔ اس بلاگ میں منتخب شاعری کو عنوانات کے تحت مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مکمل احاطہ کے لیئے تو ایک عمر درکار ہے۔ مگر جتناہم سے مرتب ہو سکا، آپکی خدمت میں حاضر ہے۔ انشاء اللہ آپکی آراء کی مدد سےبہتر سے بہتر کا سفر جاری رہےگا۔ عاطف تسنیم خان
Monday, February 26, 2024
گلہ ۔ عدیل شاکر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment