Friday, January 17, 2025

نہیں ہو رہا ۔ تہذیب حافی

 

تری قید سے میں یونہی رہا c
مری زندگی ترا حق ادا نہیں ہو رہا
۔
ترے جیتے جاگتے اور کوئی مرے دل میں ہے
مرے دوست کیا یہ بہت برا نہیں ہو رہا
۔
مرا موسموں سے تو پھر گلہ ہی فضول ہے
تجھے چھو کے بھی میں اگر ہرا نہیں ہو رہا
۔
کوئی شعر ہے جو میں چاہ کر بھی نہ لکھ سکا
کوئی واقعہ ہے جو رونما نہیں ہو رہا
۔
یہ جو ڈگمگانے لگی ہے تیرے دیے کی لو
اسے مجھ سے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا
۔
مجھے علم ہے مری کشتیوں میں سوراخ ہیں
جبھی پار جانے کا حوصلہ نہیں ہو رہا
۔
تہذیب حافی

No comments:

Post a Comment