یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو
کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو
کسی کے بِن، کسی کی یاد کے بِن
جیئے جانے کی ہمت ہے؟ نہیں تو
ہے وہ اک خوابِ بے تعبیر، اس کو
بھلا دینے کی نیت ہے؟ نہیں تو
کسی صورت بھی دل لگتا نہیں؟ ہاں
تو کچھ دن سے یہ حالت ہے؟ نہیں تو
تیرے اس حال پر ہے سب کو حیرت
تجھے بھی اس پہ حیرت ہے؟ نہیں تو
ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری
تجھے اس پر ندامت ہے؟ نہیں تو
ہُوا جو کچھ یہ ہی مقسوم تھا کیا
یہ ہی ساری حکایت ہے؟ نہیں تو
اذیت ناک امیدوں سے تجھ کو
اماں پانے کی حسرت ہے؟ نہیں تو
تُو رہتا ہے خیال و خواب میں گم
تو اِس کی وجہ فرصت ہے؟ نہیں تو
سبب جو اِس جدائی کا بنا ہے
وہ مجھ سے خوبصورت ہے؟ نہیں تو
جون ایلیا
شاعری کا تعلق موسم، مزاج، عاشقی، اداسی، محبت، ، جنوں، سوچ، خیال، ، ارادہ، وہم، شوق اور انبساط سے ہے۔ اسکی تقسیم بھی انہی عنوانات کے تحت ہی ہوتی ہے۔ اس بلاگ میں منتخب شاعری کو عنوانات کے تحت مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مکمل احاطہ کے لیئے تو ایک عمر درکار ہے۔ مگر جتناہم سے مرتب ہو سکا، آپکی خدمت میں حاضر ہے۔ انشاء اللہ آپکی آراء کی مدد سےبہتر سے بہتر کا سفر جاری رہےگا۔ عاطف تسنیم خان
Friday, January 17, 2025
نہیں تو ۔ جون ایلیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment