ظالم تو فقط اپنی انا دیکھ رہا ہے
میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا دیکھ رہا ہے
پھل دار درخت اپنی جوانی پہ ہے نازاں
سوکھا ہوا ایک درخت گھٹا دیکھ رہا ہے
بجھنا تو مقدر ہے مگر لو کی لپک سے
ہے تیز ہوا کتنی دیا دیکھ رہا ہے
دعواہ تھا کہ موجوں سے لڑے گا وہ میرے ساتھ
میں ڈُوب رہا ہوں وہ کھڑا دیکھ رہا ہے
کیوں دیکھے مجھے خواہشِ امداد سے کوئی
راضی ہوں کہ مجھے میرا خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا دیکھ رہا ہے
پھل دار درخت اپنی جوانی پہ ہے نازاں
سوکھا ہوا ایک درخت گھٹا دیکھ رہا ہے
بجھنا تو مقدر ہے مگر لو کی لپک سے
ہے تیز ہوا کتنی دیا دیکھ رہا ہے
دعواہ تھا کہ موجوں سے لڑے گا وہ میرے ساتھ
میں ڈُوب رہا ہوں وہ کھڑا دیکھ رہا ہے
کیوں دیکھے مجھے خواہشِ امداد سے کوئی
راضی ہوں کہ مجھے میرا خدا دیکھ رہا ہے
بہت خوب
ReplyDeleteبہت خوب
ReplyDelete