Saturday, April 28, 2012

خدا دیکھ رہا ہے

ظالم تو فقط اپنی انا دیکھ رہا ہے
میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا دیکھ رہا ہے


پھل دار درخت اپنی جوانی پہ ہے نازاں
سوکھا ہوا ایک درخت گھٹا دیکھ رہا ہے


بجھنا تو مقدر ہے مگر لو کی لپک سے
ہے تیز ہوا کتنی دیا دیکھ رہا ہے


دعواہ تھا کہ موجوں سے لڑے گا وہ میرے ساتھ
میں ڈُوب رہا ہوں وہ کھڑا دیکھ رہا ہے


کیوں دیکھے مجھے خواہشِ امداد سے کوئی
راضی ہوں کہ مجھے میرا خدا دیکھ رہا ہے

2 comments: