Tuesday, November 29, 2011

سفر میں زندگی کے

سفر میں زندگی کے

 کوئی رستہ نہیں‌ دیتا
زمیں واقف نہیں‌ بنتی
 فلک سایہ نہیں دیتا

اداسی جس کے دل میں‌ ہو
 اسی کی نیند اڑ تی ہے
کسی کو اپنی آنکھوں سے
 کوئی سپنا نہیں دیتا

اٹھانا خود ہی پڑتا ہے
 تھکا ٹوٹا بدن اپنا
کہ جب تک سانس چلتی ہے
 کوئی کندھا نہیں‌دیتا

No comments:

Post a Comment