Tuesday, November 29, 2011

ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے

ترے فراق کے لمحے

شمار کرتے ہوئے
بکھر چلے ہیں ترا انتظار کرتے ہوئے

تو میں بھی خوش ہوں
کوئی اُس سے جا کے کہہ دینا
اگر وہ خوش ہے مجھے بے قرار کر تے ہوئے

تمہیں خبر ہی نہیں ہے
کہ کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے

میں مسکراتا ہوا
آئینے میں اُبھروں گا
وہ رو پڑیں گے اچانک سنگھار کرتے ہوئے

مجھے خبر تھی
کہ اب لوٹ کر نہ آؤں گا
سو تجھ کو یاد کیا دل پہ وار کرتے ہوئے

یہ کہہ رہی تھی
سمندر نہیں آنکھیں ہیں
میں اُن میں ڈوب گیا اعتبار کرتے ہوئے

بھنور جو مجھ میں پڑے ہیں
وہ میں ہی جانتا ہوں
تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے

No comments:

Post a Comment