نئے گھرانے بسا رہے تھے
چراغ بستی سے جا رہے تھے
یتیم لگنے لگی تھی چھاؤں
پرند وحشت منا رہے تھے
جمی تھی گرد آئنوں کے اوپر
ہم اپنی آنکھیں چھپا رہے تھے
صدائے گریہ تھی باغ میں اور
درخت پونجی لٹا رہے تھے
صحیفے برسوں سے ان چھوئے تھے
سو لوگ انکو بھلا رہے تھے
سرائے ویراں تھی اور مسافر
نہ آ رہے تھے نہ جا رہے تھے
جدید ہوتے گلی محلے
قدیم منظر دکھا رہے تھے
حویلیوں کے کواڑ مجھکو
مری ہی دستک سنا رہے تھے
No comments:
Post a Comment