ہم اہلِ کوفہ یزیدیت کی صفَوں میں شامل
تری ہلاکت کے منتظر ہیں
ہماری آنکھوں میں اپنے گھر ہیں
ہمارے دل میں ہمارے ڈر ہیں
ہم اہلِ کوفہ ، ہزار سالوں سے
بے بسی کا نصاب لے کر
چمکتے سورج کا خواب لے کر
دیارِ دل میں چھُپے ہوئے ہیں
ہم اپنی دھڑکن سے ڈرنے والے
کھلو نے لے کر بہلنے والے
ترے کفن پر ستارے چُن کر
تری بقا کے ترانے سُن کر
تجھے لحد میں اُتار دیں گے
No comments:
Post a Comment