Tuesday, November 29, 2011

محبت کی ادھوری نظم


رات کا سمندر ہے
رات بھی محبت کی


بات کا اجالا ہے
بات بھی محبت کی


گھات کی ضرورت ہے
گھات بھی محبت کی


نرم گرم خاموشی
سہج سہج سرگوشی


چور چور دروازے
کون چھپ کے آیا ہے


آرزو نے جنگل میں
راستہ بنایا ہے


جھینپتے ہوئے آنگن
نے درخت سے مل کر


کچھ نہ کچھ چھپایا ہے
آسماں کی کھڑکی میں


سکھ بھری شرارت سے
چاند مسکرایا ہے


چاند مسکرایا ہے
چاندنی نہائی ہے


خوشبوؤں نے موسم میں
آگ سی لگائی ہے


عشق نے محبت کی
آنکھ چومنا چاہی


اور ہوا کے حلقے میں
شوخ سی نزاکت سے


شاخ کمسائی ہے
رات کا سمندر ہے


رات بھی محبت کی
بات کا اجالا ہے


رات بھی محبت کی
بات کے سویرے میں


زندگی کے گھیرے میں
روح ٹمٹمائی ہے


وصل جھلملایا ہے
دل نے بند سینے میں


حشر سا اٹھایا ہے
کون چھپ کے آیا ہے

No comments:

Post a Comment